ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اسرائیل کا شمالی غزہ کو24 گھنٹے میں خالی کرنے کا الٹی میٹم

اسرائیل کا شمالی غزہ کو24 گھنٹے میں خالی کرنے کا الٹی میٹم

Sat, 14 Oct 2023 12:41:42    S.O. News Service

تل ابیب ، 14/اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی) غزہ پر اسرائیل کے ذریعے جاری وحشیانہ بمباری کے درمیان اسرائیلی فوج نے24گھنٹے کے اندر تمام 10 لاکھ سے زائد اہل غزہ کو شمالی غزہ چھوڑ کر جنوبی غزہ جانے کا الٹی میٹم  دیا تاکہ جب زمینی حملہ شروع کیا جائے تو اسرائیل کو کسی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اطلاع ہے کہ تل ابیب کے متوقع زمینی حملے سے قبل ٹینک غزہ  پٹی کے نہایت قریب پہنچ گئے ہیں اور انہیں نے پورے علاقے کا محاصرہ شروع کردیا ہے۔ 

اسرائیلی وزیردفاع یوو گیلنٹ نے کہا  کہ یہ جنگ کا وقت ہے۔ ہم غزہ  اور حماس دونوں کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے۔اسی لئے یہاں کے شہریوں کو انتباہ دیا جارہا ہے کہ وہ اسرائیلی فوج اور حماس کے درمیان نہ آئیں ورنہ وہ بھی پس جائیں گے ۔انہیں مشورہ دیا جارہا ہے کہ وہ شمالی غزہ چھوڑ کر جنوبی حصے کی طرف منتقل ہو جائیں۔ واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر بھاری بمباری کا سلسلہ جاری ہے ۔اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ غزہ شہر میں  زبردست فوجی آپریشن کریں گے ۔یہاں شہری تبھی واپس جا سکیں گے جب  انہیں اجازت ملے گی اس لئے ابھی جو جاسکتے ہیں وہ چلے جائیں۔ اسرائیلی فوج نے بتایا کہ غزہ کے شہری  اپنی اور اپنے خاندانوں کی حفاظت کے  لئے جنوب چلے جائیں اور خود کو حماس سے دور کر لیں، جو آپ کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ 

 اسرائیلی فوج کی اس دھمکی پر اقوام متحدہ نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ عالمی ادارہ نے کہا کہ تباہ کن انسانی نتائج کے بغیر شہریوں کی اتنے بڑے پیمانے پر نقل مکانی ناممکن ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا کہ اسرائیلی فوج کے اس حکم کی شدید مذمت کی جانی چاہئے کیوں کہ ۲۴؍ گھنٹے کے اندر اتنی بڑی تعداد میں موجود شہریوں کو کسی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کردینا نا ممکن ہے اور یہ غیر انسانی عمل بھی ہو گا۔ اقوام متحدہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ بند کرے ، بمباری روکے اور مختلف راحتی ٹیموں کو غزہ میں محفوظ راہداری فراہم کرے۔ واضح رہے کہ غزہ میں 23 لاکھ سے زائدف افراد رہائش پذیر ہیں اور اسرائیلی فوج کی پیش قدمی سے ان سبھی کی جانوں کو خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔  

 انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) نے کہا ہے کہ غزہ کے اسپتالوں میں ایمرجنسی جنریٹر کے  لئے چند گھنٹوں میں ایندھن ختم ہو سکتا ہے  جبکہ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیا ہے کہ خوراک اور تازہ پانی خطرناک حد تک کم ہو رہا ہے۔آئی سی آر سی کے ریجنل ڈائریکٹر فیبریزیو کاربونی نے کہا کہ بڑھتی کشیدگی سے اہل غزہ کو سنگین مصیبت درپیش ہے ۔ میں فریقین سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ شہریوں کی تکالیف کو کم کرنے کے اقدامات کریں۔ 

 اسرائیلی فوج کی جانب سے علاقہ خالی کرنے کے حکم پر ترکی نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ترکی نےکہا کہ یہ ہدایت غیر انسانی ہے اور بہت بڑے انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے۔ اگر عالمی تنظیمیں یہ دیکھ رہی ہیں اور خاموش ہیں تو انہیں اپنی خاموشی پر شرم آنی چاہئے کیوں کہ اسرائیل مسلسل خلاف ورزیاں کررہا ہے لیکن وہ مذمت تک نہیں کررہی ہیں۔ ترکی وزارت خارجہ کی جانب سے یہ واضح کیا گیا کہ وہ اہل غزہ کی ہر طرح سے حمایت کریں گے  اور اسرائیل سے اپنا حکم واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 

 اسرائیلی فوج کے حکم پر جہاں پوری دنیا میں ہنگامہ برپا ہے اور اہل غزہ کی کھل کر حمایت کی جارہی ہے اسرائیل کے سب سے بڑے حلیف امریکہ نے حسب معمول اسرائیل کے اس اقدام کی بھی حمایت کی ہے۔ امریکہ کی نیشنل سیکوریٹی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ’’ہم سمجھتے ہیں کہ اہل غزہ کے لئے یہ بہت سخت اور بڑا حکم ہے لیکن ہمیں یہ بات بھی سمجھنی چاہئے کہ اسرائیل شہریوں کو پہلے ہی منتقل ہونے کی وارننگ دے کر اپنی ذمہ داری ادا کر رہا ہے۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں احساس ہے کہ یہ حکم بڑا المیہ ثابت ہو سکتا ہے کیوں کہ غزہ میں ایک ملین سے زائد لوگ اس وقت موجود ہیں لیکن تب بھی ہمیں اسرائیل کے’درد مندی ‘ کو سمجھنا چاہئے کہ وہ جنگ کے باوجود کم سے کم انسانی جانوں کا زیاں چاہتا ہے۔ 

 حماس کی جانب سے شروع کئے گئے حملے کے جواب میں اسرائیلی گولہ باری کی وجہ سے غزہ  پٹی میں ہزاروں بچوں سمیت تقریباً 10 لاکھ متاثرین کو محفوظ پناہ گاہیں نہیں مل رہی ہیں۔اقوام متحدہ کےادارہ  یونیسیف نےکہا کہ ہم غزہ کےمناظر سے خوفزدہ ہیں۔ متاثرین میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔ یہاں تقریباً 10 لاکھ لوگوں کے پاس رہنے کے  لئے کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔ یہ ناقابل قبول ہے ۔تشدد فوری طور پر بند ہونا چاہئے۔ادارے جاری کردہ بیان کے مطابق اسرائیل نے پورے غزہ کو کھنڈر میں تبدیل کردیا ہے۔ لوگوں کے پاس سر چھپانے کو جگہ نہیں ہے۔ نہ انہیں کمبل مل رہے ہیں اور نہ غذا ہی دستیاب ہے۔


Share: